11News.pk | Online News Network
11News.pk | Online News Network

کیا انسدادِ گھریلو تشدد بل بے حیائی کا باعث بنے گا؟

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ نے جب چند روز قبل ’’گھریلو تشدد (تحفظ اور روک تھام) بل 2021 منظور کرنے کے بعد جب اسے دوبارہ قومی اسمبلی میں منظوری کےلیے بھیجا تو بجائے اس کو سراہے جانے کے اس پر تنقید شروع ہوگئی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس سے ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہوجائے گا۔ کچھ کو لگا کہ یہ اسلامی شعائر کے منافی ہے۔ ایک معروف صحافی کو تو اس میں بھی فحاشی اور بے حیائی نظر آگئی اور انہوں نے اس موضوع پر پورا کالم لکھ ڈالا۔ جس میں اس بل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اس کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی تجویز بھی دے دی۔

ان کے مطابق اس بل میں مغربی معاشرے کی نقالی کرتے ہوئے کچھ ایسی شقیں ڈالی گئی ہیں جن سے والدین کا اولاد پر کنٹرول ختم ہوجائے گا، جس سے سماج میں بے حیائی اور بے راہ روی میں اضافہ ہوجائے گا۔ محترم کالم نگار کو بل میں تجویز کردہ سزاؤں پر بھی اعتراض ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی بہت حیرت کا اظہار کیا کہ ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے اراکین نے متفقہ طور پر اس بل کو کیسے منظور کروادیا؟ پاکستان علما کونسل کی طرف سے بھی اس کی کچھ شقوں کو اسلام اور پاکستان کی سماجی، ثقافتی روایات کے منافی قرار دینے کے بعد اس کو نظرثانی کےلیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جس کے بعد اسے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف بھیج دیا گیا۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ’’انسداد گھریلو تشدد بل‘‘ میں کیا واقعی ایسی شقیں شامل کی گئی ہیں جن سے بے حیائی یا بے راہ روی پھیلنے کا خدشہ ہوسکتا ہے؟

اس سوال کا جواب ہم اس بل کے بارے میں مکمل طور پر جان کر ہی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس بل میں سب سے پہلے گھریلو تشدد کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ جس کے مطابق گھریلو تشدد کو صرف جسمانی تشدد تک ہی محدود نہیں کیا گیا بلکہ اس میں ذہنی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی تشدد یا بدسلوکی کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ اور گھریلو تشدد سے متاثرین میں بھی خواتین کے علاوہ بچوں اور بوڑھوں سمیت کمزور افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد تشدد کی ان تمام اقسام کی وضاحت دی گئی ہے۔ جسمانی تشدد سے مراد ’’پاکستان پینل کوڈ‘‘ میں درج جسمانی تشدد سے متعلقہ تمام شقیں شامل ہیں۔

نفسیاتی اور جذباتی بدسلوکی سے مراد متاثرہ شخص پر چیخنا، چلانا، اس کی آزادی، پرائیویسی میں بار بار دخل اندازی کرنا، اس پر اپنا اختیار اور حق جتانا، بار بار بے عزت کرکے جسمانی تشدد کی دھمکی دینا، اس کی جاسوسی کرنا، اس پر بہتان لگانا، بیوی ہونے کی صورت میں بانجھ پن کی وجہ سے طلاق دینے اور دوسری شادی کی دھمکی دینا اور کسی دوسرے مرد سے تعلق بنانے پر مجبور کرنا یا اسے ہراساں کرنا شامل ہے۔ اسی طرح جنسی بدسلوکی سے مراد ہر طرح کی جنسی زیادتی اور ہراسانی، جبکہ معاشی بدسلوکی سے مراد جان بوجھ کر متاثرہ شخص کو اس کے معاشی حقوق سے محروم رکھنا شامل ہے۔

اس بل میں مذکورہ تمام جرائم سے متعلق سزاؤں کا بھی بتایا گیا ہے۔ جن کے مطابق تمام جرائم کے ثابت ہونے پر پاکستان پینل کوڈ میں ان سے متعلقہ سزائیں دی جائیں گی۔ اور اگر کسی جرم کی سزا پاکستان پینل کوڈ میں درج نہیں ہے تو اس جرم کی نوعیت کے مطابق اس بل میں چھ ماہ سے تین سال تک قید اور بیس ہزار سے ایک لاکھ تک جرمانے کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ جرمانہ ادا نہ کیے جانے کی صورت میں عدالت کی طرف سے مزید تین ماہ کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد بل میں شکایت درج کروانے اور اس پر عدالتی کارروائی کا پورا عمل تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عدالت پہلے کسی متاثرہ شخص کی شکایت پر بدسلوکی کرنے والے شخص کو تنبیہ کرکے متاثرہ شخص سے دور رہنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ باز نہیں آتا تو متاثرہ شخص سے دور رکھنے کےلیے اسے بریسلیٹ بھی پہنایا جاسکتا ہے اور بعد میں دیگر بتائی گئی سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔

بل کے آخری حصے میں ’’پروٹیکشن کمیٹی‘‘ کے قیام کی سفارش کی گئی ہے، جس میں ’’فیملی پروٹیکشن شیلٹر‘‘ کا نمائندہ، قومی کمیشن برائے خواتین کا نمائندہ، ایک ڈاکٹر یا ماہر نفسیات اور ایک پولیس آفیسر شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی گھریلو تشدد سے متاثرہ افراد کو ہر لحاظ سے مدد اور تعاون فراہم کرے گی۔ بل سے متعلق تمام تفصیلات جاننے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ یہ بل بہت ہی جامع ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں عموماً گھریلو تشدد سے مراد صرف خواتین پر تشدد ہی لیا جاتا ہے۔ اور یہ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں خواتین ہی سب سے زیادہ گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ بلکہ کورونا وبا کے دوران اس میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ لیکن اس بل میں خواتین کے ساتھ بچوں اور نحیف افراد کو بھی شامل کیا جانا خوش آئند امر ہے۔ کیونکہ ہمارے گھروں میں تربیت کے نام پر بچوں کو بھی گھریلو بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح جوائنٹ فیملی میں رہنے والے عمر رسیدہ اور نحیف افراد کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسرا ہمارے ہاں تشدد سے مراد صرف جسمانی تشدد ہی لیا جاتا ہے، جبکہ کئی دفعہ جسمانی تشدد سے زیادہ جذباتی، نفسیاتی اور جنسی تشدد متاثرہ شخص پر برے طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے اس بل میں جسمانی تشدد کے ساتھ جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی تشدد کو بھی شامل کیا جانا ایک احسن اقدام ہے۔

جہاں تک اس سے بے حیائی اور بے راہ روی پھیلنے یا فیملی سسٹم کے بگاڑ کا سوال ہے تو اس کی تمام شقوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد بڑے وثوق سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اس لیے بچوں سے متعلق شق پر اس حوالے سے اعتراض اٹھایا جانا بے بنیاد ہے، کیونکہ تمام مہذب معاشروں میں بچوں کی تربیت ہر طرح کے جسمانی اور ذہنی تشدد سے ماورا ہو کر کی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ سختی سے پیش آنے کے بجائے ان سے پیار اور دوستی کا رشتہ بنا کر کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آنے والی زندگیوں میں بہتر انسان بن پاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں سختی سے پیش آنے کا نتیجہ بچوں کے عدم اعتماد کی صورت میں نکلتا ہے جس کا اثر ان کی پوری زندگی پر برقرار رہتا ہے۔

اس حوالے سے جہاں تک اس قانون کے غلط استعمال کی بات ہے تو وہ تو کسی بھی قانون کو غلط مقاصد کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کی سب سے بڑی مثال توہین مذہب کا قانون ہے جس کا سب سے زیادہ غلط استعمال کرکے بے گناہ لوگوں کو پھنسا دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یا تو وہ جان سے چلے جاتے ہیں یا کتنے ہی سال اپنی بے گناہی ثابت کرنے کےلیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ایڑیاں رگڑتے رہتے ہیں۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی تھی کہ جب انسداد گھریلو تشدد کا یہ جامع بل تمام صوبائی اسمبلیوں سے پاس ہونے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بھی پاس ہوگیا تھا اور قومی اسمبلی میں اسے قانون کی حیثیت حاصل ہوجانا تھی، تو اس کے بارے میں ایک منظم طریقے سے مہم چلا کر لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی پھیلائی جاتی نہ کہ منفی باتیں پھیلا کر اس کو متنازع بنا دیے جانے کے بعد اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا جاتا۔ کیونکہ ہمارے ہاں انہی وجوہات کی بنا پر بہت سے قوانین کے موجود ہونے کے باوجود بھی عوام ان سے درست طریقے سے مستفید نہیں ہوپاتے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

 

The post کیا انسدادِ گھریلو تشدد بل بے حیائی کا باعث بنے گا؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



source https://www.express.pk/story/2200321/464
Post a Comment (0)
Previous Post Next Post